تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیم علیہ السلام کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَنَظْ٘رَةًفِیالنُّجُوْمِۙ ۰۰ فَقَالَاِنِّیْسَقِیْمٌ ﴾”تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔“ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے، ایک موقع پر فرمایا: ﴿اِنِّیْسَقِیْمٌ ﴾”میں بیمار ہوں“ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَبَلْفَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْهٰؔذَا ﴾ (الانبیاء:21؍63) ”بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔“ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ”یہ میری بہن ہے۔“
ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوْاعَنْهُمُدْبِرِیْنَ ﴾”تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔“ پس ابراہیم علیہ السلام کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَاِلٰۤىاٰلِهَتِهِمْ ﴾ یعنی ابراہیم علیہ السلام جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَاتَاْكُلُوْنَۚ۰۰مَالَكُمْلَاتَنْطِقُوْنَ ﴾”تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟“ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔
﴿فَرَاغَعَلَیْهِمْضَرْبًـۢابِالْیَمِیْنِ ﴾”، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔“ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأراد عليه السلام أن يكسِرَ أصنامهم ويتمكَّن من ذلك، فانتهز الفرصةَ في حين غفلةٍ منهم لما ذهبوا إلى عيدٍ من أعيادهم، فخرج معهم، {فَنَظَرَ نظرةً في النجوم. فقال: إني سقيمٌ}: في الحديث الصحيح: «لم يكذبْ إبراهيمُ عليه السلام إلاَّ ثلاثَ كذباتٍ: قولُهُ: إني سقيمٌ، وقوله: بل فعله كبيرُهُم هذا، وقوله عن زوجته: إنها أختي». والقصدُ أنَّه تخلَّف عنهم ليتمَّ له الكيدُ بآلهتهم. ولهذا {تولَّوا عنه مدبِرينَ}، فلما وجد الفرصة؛ {فراغ إلى آلهتهم}؛ أي: أسرع إليها على وجه الخفية والمراوغة، {فقال} متهكِّماً بها: {ألا تأكُلونَ. ما لكم لا تنطقونَ}؛ أي: فكيف يليقُ أن تُعْبَدَ وهي أنقص من الحيوانات التي تأكُلُ و تُكلِّم، وهذه جمادٌ لا تأكل ولا تُكلِّم؟! {فراغَ عليهم ضرباً باليمين}؛ أي: جعل يضربها بقوَّتِهِ ونشاطِهِ حتى جعلها جذاذاً؛ إلاَّ كبيراً لهم لعلَّهم إليه يرجِعون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔