تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“
ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357]
تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“
اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأراد عليه السلام أن يكسِرَ أصنامهم ويتمكَّن من ذلك، فانتهز الفرصةَ في حين غفلةٍ منهم لما ذهبوا إلى عيدٍ من أعيادهم، فخرج معهم، {فَنَظَرَ نظرةً في النجوم. فقال: إني سقيمٌ}: في الحديث الصحيح: «لم يكذبْ إبراهيمُ عليه السلام إلاَّ ثلاثَ كذباتٍ: قولُهُ: إني سقيمٌ، وقوله: بل فعله كبيرُهُم هذا، وقوله عن زوجته: إنها أختي». والقصدُ أنَّه تخلَّف عنهم ليتمَّ له الكيدُ بآلهتهم. ولهذا {تولَّوا عنه مدبِرينَ}، فلما وجد الفرصة؛ {فراغ إلى آلهتهم}؛ أي: أسرع إليها على وجه الخفية والمراوغة، {فقال} متهكِّماً بها: {ألا تأكُلونَ. ما لكم لا تنطقونَ}؛ أي: فكيف يليقُ أن تُعْبَدَ وهي أنقص من الحيوانات التي تأكُلُ و تُكلِّم، وهذه جمادٌ لا تأكل ولا تُكلِّم؟! {فراغَ عليهم ضرباً باليمين}؛ أي: جعل يضربها بقوَّتِهِ ونشاطِهِ حتى جعلها جذاذاً؛ إلاَّ كبيراً لهم لعلَّهم إليه يرجِعون.