تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِذْقَالَلِاَبِیْهِوَقَوْمِهٖمَاذَاتَعْبُدُوْنَ﴾”جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟“ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفْكًااٰلِهَةًدُوْنَاللّٰهِتُرِیْدُوْنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن سلامته أنه سليمٌ من غشِّ الخلق وحَسَدِهم وغير ذلك من مساوئ الأخلاق، ولهذا نصح الخلق في الله، وبدأ بأبيه وقومِهِ، فقال: {إذْ قال لأبيه وقومِهِ ماذا تَعْبُدونَ}؟ هذا استفهامٌ على وجه الإنكار وإلزامٌ لهم بالحجة. {أإفكاً آلهةً دون الله تريدونَ}؟ أي: أتعبدون من دون آلهة كذباً ليست بآلهة، ولا تصلُحُ للعبادة؟! {فما ظنُّكم بربِّ العالمين}: أن يفعل بكم وقد عبدتُم معه غيره؟! وهذا ترهيبٌ لهم بالجزاء بالعقابِ على الإقامة على شركهم، وما الذي ظننتُم بربِّ العالمين من النقص حتى جعلتُم له أنداداً وشركاء؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔