تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالُوْا ﴾ سردار اُن کو جواب دیں گے: ﴿بَلْلَّمْتَكُوْنُوْامُؤْمِنِیْنَ﴾ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی شرک کرتے رہے۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے جو ہمیں ملامت کرنے کی موجب ہو ﴿وَ﴾”اور“ حالت یہ ہے کہ ﴿مَاكَانَلَنَاعَلَیْكُمْمِّنْسُلْطٰ٘نٍ ﴾ ہمیں تم سے کفر کا ارتکاب کرانے کی کوئی قوت اور اختیار حاصل نہ تھا ﴿بَلْكُنْتُمْقَوْمًاطٰغِیْنَ ﴾”بلکہ تم سرکش لوگ تھے“ اور حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ تھے۔ ﴿فَحَقَّعَلَیْنَا ﴾”پس ہم پر واجب ہو گیا“ یعنی تم پر اور ہم پر ﴿اِنَّالَذَآىِٕقُوْنَ ﴾” یقینا ہم چکھیں گے“ عذاب کا یعنی ہم پر ہمارے رب کی قضاوقدر حق ثابت ہوئی ہم اور تم سب عذاب کا مزا چکھیں گے اور سب مل کر سزا بھگتیں گے۔بنا بریں ﴿فَاَغْ٘وَیْنٰكُمْ۠اِنَّاكُنَّاغٰوِیْنَ ﴾”پس ہم نے تم کو گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔“ یعنی ہم نے تمھیں اس راستے کی طرف بلایا جس پر ہم گامزن تھے، یعنی گمراہی کے راستے کی طرف، تم نے ہماری آواز پر لبیک کہی اس لیے تم ہمیں ملامت کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا} لهم: {بل لمْ تكونوا مؤمنينَ}؛ أي: ما زلتُم مشرِكين كما نحنُ مشركونَ؛ فأيُّ شيءٍ فضَّلَكم علينا؟! وأيُّ شيء يوجِبُ لومَنا؟! {و} الحالُ أنَّه {ما كان لنا عليكُم من سلطانٍ}؛ أي: قهرٍ لكم على اختيار الكفر، {بل كنتُم قوماً طاغينَ}: متجاوِزين للحدِّ ، {فحقَّ علينا}: نحنُ وإيَّاكُم {قولُ ربِّنا إنَّا لَذائقونَ}: العذاب؛ أي: حقَّ علينا قَدَرُ ربِّنا وقضاؤه أنَّا وإيِّاكم سنذوقُ العذابَ ونشترِكُ في العقاب. {فـ} لذلك {أغْوَيْناكم إنَّا كُنَّا غاوينَ}؛ أي: دَعَوْناكم إلى طريقتِنا التي نحنُ عليها، وهي الغوايةُ، فاستَجَبْتُم لنا؛ فلا تلومونا ولوموا أنفسكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔