(آیت 29) {قَالُوْابَلْلَّمْتَكُوْنُوْامُؤْمِنِيْنَ:} ان کے سردار انھیں پانچ جواب دیں گے، پہلا یہ کہ دنیا میں ہم تمھارے کفر کا سبب نہیں تھے، بلکہ تم نے خود اپنی مرضی سے ایمان قبول کرنے سے انکار کیا اور اس پر کفر کو ترجیح دی۔ کفر کا منبع تمھاری ذات تھی، ایمان کسی وقت بھی تمھارے دلوں میں نہیں تھا کہ ہم نے تمھیں اس سے مرتد کیا ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 لیڈر کہیں گے کہ ایمان تم اپنی مرضی سے نہیں لائے اور آج ذمہ دار ہمیں ٹھہرا رہے ہو؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ (بڑے لوگ) کہیں گے۔ (بات یوں نہیں) بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالُوْا ﴾ سردار اُن کو جواب دیں گے: ﴿بَلْلَّمْتَكُوْنُوْامُؤْمِنِیْنَ﴾ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی شرک کرتے رہے۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے جو ہمیں ملامت کرنے کی موجب ہو ﴿وَ﴾”اور“ حالت یہ ہے کہ ﴿مَاكَانَلَنَاعَلَیْكُمْمِّنْسُلْطٰ٘نٍ ﴾ ہمیں تم سے کفر کا ارتکاب کرانے کی کوئی قوت اور اختیار حاصل نہ تھا ﴿بَلْكُنْتُمْقَوْمًاطٰغِیْنَ ﴾”بلکہ تم سرکش لوگ تھے“ اور حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ تھے۔ ﴿فَحَقَّعَلَیْنَا ﴾”پس ہم پر واجب ہو گیا“ یعنی تم پر اور ہم پر ﴿اِنَّالَذَآىِٕقُوْنَ ﴾” یقینا ہم چکھیں گے“ عذاب کا یعنی ہم پر ہمارے رب کی قضاوقدر حق ثابت ہوئی ہم اور تم سب عذاب کا مزا چکھیں گے اور سب مل کر سزا بھگتیں گے۔بنا بریں ﴿فَاَغْ٘وَیْنٰكُمْ۠اِنَّاكُنَّاغٰوِیْنَ ﴾”پس ہم نے تم کو گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔“ یعنی ہم نے تمھیں اس راستے کی طرف بلایا جس پر ہم گامزن تھے، یعنی گمراہی کے راستے کی طرف، تم نے ہماری آواز پر لبیک کہی اس لیے تم ہمیں ملامت کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا} لهم: {بل لمْ تكونوا مؤمنينَ}؛ أي: ما زلتُم مشرِكين كما نحنُ مشركونَ؛ فأيُّ شيءٍ فضَّلَكم علينا؟! وأيُّ شيء يوجِبُ لومَنا؟! {و} الحالُ أنَّه {ما كان لنا عليكُم من سلطانٍ}؛ أي: قهرٍ لكم على اختيار الكفر، {بل كنتُم قوماً طاغينَ}: متجاوِزين للحدِّ ، {فحقَّ علينا}: نحنُ وإيَّاكُم {قولُ ربِّنا إنَّا لَذائقونَ}: العذاب؛ أي: حقَّ علينا قَدَرُ ربِّنا وقضاؤه أنَّا وإيِّاكم سنذوقُ العذابَ ونشترِكُ في العقاب. {فـ} لذلك {أغْوَيْناكم إنَّا كُنَّا غاوينَ}؛ أي: دَعَوْناكم إلى طريقتِنا التي نحنُ عليها، وهي الغوايةُ، فاستَجَبْتُم لنا؛ فلا تلومونا ولوموا أنفسكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔