تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 167

وَ اِنۡ کَانُوۡا لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۙ
اور بے شک وہ (کافر) تو کہا کرتے تھے۔ En
اور یہ لوگ کہا کرتے تھے
En
کفار تو کہا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى أنَّ هؤلاء المشركين يُظْهِرونَ التمنِّي ويقولون: لو جاءنا من الذِّكْرِ والكتبِ ما جاء الأولين؛ لأخْلَصْنا لله العبادة، بل لكنَّا المخلِصينَ على الحقيقةِ، وهم كَذَبَةٌ في ذلك؛ فقد جاءهم أفضلُ الكتب فكفروا به، فعُلِمَ أنَّهم متمرِّدونَ على الحقِّ. {فسوف يعلمونَ}: العذابَ حين يقعُ بهم.