(آیت 167تا170){”وَاِنْكَانُوْالَيَقُوْلُوْنَ“} اصل میں {”وَإِنَّهُمْكَانُوْايَقُوْلُوْنَ“} تھا۔ دلیل اس کی {”لَيَقُوْلُوْنَ“} پر آنے والا لام ہے، جس کی وجہ سے {”إِنَّ“} کو {”إِنْ“} کر دیا اور {”هُمْ“} کو حذف کر دیا۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۴۲) اور سورۂ انعام (۱۵۶، ۱۵۷) یعنی یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ گزشتہ لوگوں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا، یا ہم پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ مگر جب یہ کتاب ان کے پاس آ گئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اب اس انکار کا نتیجہ وہ بہت جلدی جان لیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
167۔ اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے کہ:
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوْفَیَعْلَمُوْنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى أنَّ هؤلاء المشركين يُظْهِرونَ التمنِّي ويقولون: لو جاءنا من الذِّكْرِ والكتبِ ما جاء الأولين؛ لأخْلَصْنا لله العبادة، بل لكنَّا المخلِصينَ على الحقيقةِ، وهم كَذَبَةٌ في ذلك؛ فقد جاءهم أفضلُ الكتب فكفروا به، فعُلِمَ أنَّهم متمرِّدونَ على الحقِّ. {فسوف يعلمونَ}: العذابَ حين يقعُ بهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔