تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَنْۢـبَتْنَاعَلَیْهِشَجَرَةًمِّنْیَّقْطِیْنٍ﴾”اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔“ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنبَتْنا عليه شجرةً من يَقْطينٍ}: تُظِلُّه بظلِّها الظليل؛ لأنَّها باردةُ الظِّلال، ولا يسقُطُ عليها ذبابٌ، وهذا من لطفِهِ به وبرِّه.