تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 146

وَ اَنۡۢبَتۡنَا عَلَیۡہِ شَجَرَۃً مِّنۡ یَّقۡطِیۡنٍ ﴿۱۴۶﴾ۚ
اور ہم نے اس پر ایک بیل دار پودا اگا دیا۔ En
اور ان پر کدو کا درخت اُگایا
En
اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت ہم نے اگا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنْۢـبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنبَتْنا عليه شجرةً من يَقْطينٍ}: تُظِلُّه بظلِّها الظليل؛ لأنَّها باردةُ الظِّلال، ولا يسقُطُ عليها ذبابٌ، وهذا من لطفِهِ به وبرِّه.