تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَنَبَذْنٰهُبِالْ٘عَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَسَقِیْمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فَنبَذْناه بالعراءِ}: بأنْ قَذَفَهُ الحوت من بطنِهِ بالعراء، وهي الأرض الخالية العاريةُ من كلِّ أحدٍ، بل ربَّما كانت عارية من الأشجارِ والظِّلال. {وهو سقيمٌ}؛ أي: قد سَقِمَ ومَرِضَ بسبب حبسِهِ في بطن الحوت حتى صار مثل الفرخ الممعوط من البيضة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔