تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 145

فَنَبَذۡنٰہُ بِالۡعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ ﴿۱۴۵﴾ۚ
پھر ہم نے اسے چٹیل میدان میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا۔ En
پھر ہم نے ان کو جب کہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا
En
پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَنَبَذْنٰهُ بِالْ٘عَرَآءِ یعنی مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِیْمٌ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فَنبَذْناه بالعراءِ}: بأنْ قَذَفَهُ الحوت من بطنِهِ بالعراء، وهي الأرض الخالية العاريةُ من كلِّ أحدٍ، بل ربَّما كانت عارية من الأشجارِ والظِّلال. {وهو سقيمٌ}؛ أي: قد سَقِمَ ومَرِضَ بسبب حبسِهِ في بطن الحوت حتى صار مثل الفرخ الممعوط من البيضة.