تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 133

وَ اِنَّ لُوۡطًا لَّمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ؕ
اور بلاشبہ لوط یقینا رسولوں میں سے تھا۔ En
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
En
بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط علیہ السلام کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰؔبِرِیْنَ سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط علیہ السلام کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔
﴿ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍ (ہود: 11؍82) ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔
﴿وَاِنَّـكُمْ لَ٘تَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصْبِحِیْنَ۰۰ وَبِالَّیْلِ دن کو بھی اور رات کو بھی۔ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا ثناءٌ منه تعالى على عبدِهِ ورسولِهِ لوطٍ بالنبوَّة والرسالة ودعوتِهِ إلى الله قومَه ونهِيِهم عن الشرك وفعل الفاحشةِ، فلمَّا لم ينتهوا؛ نجَّاه الله وأهلَه أجمعين، فَسَرَوْا ليلاً، فنجَوْا؛ {إلاَّ عجوزاً في الغابرين}؛ أي: الباقين المعذَّبين، وهي زوجة لوطٍ، لم تكن على دينِهِ. {ثم دمَّرْنا الآخرين}: بأن قَلَبْنا عليهم ديارَهم فجَعَلْنا عالِيَها سافِلَها، وأمْطَرْنا عليها حجارةً من سِجِّيل منضودٍ حتى هَمَدوا وخَمَدوا، {وإنَّكُم لتمرُّون عليهم}؛ أي: على ديار قوم لوطٍ {مصبحينَ. وبالليل}؛ أي: في هذه الأوقات يكثُرُ تَرَدُّدُكم إليها ومروركم بها، فلم تقبل الشك والمِرْيَةَ. {أفلا تعقلونَ}: الآياتِ والعِبَرَ وتنزجِرون عمَّا يوجِبُ الهلاكَ؟!