تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 104

وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙ
اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! En
تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم
En
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَنَادَیْنٰهُ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی: ﴿اَنْ یّٰۤا ِبْرٰهِیْمُ۠ۙ۰۰ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَ٘ا اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وناديناه}: في تلك الحال المزعجة والأمر المدهش: {أن يا إبراهيمُ. قد صَدَّقْتَ الرؤيا}؛ أي: قد فعلتَ ما أُمِرْتَ به؛ فإنَّك وطَّنْتَ نفسك على ذلك، وفعلتَ كلَّ سبب، ولم يبقَ إلاَّ إمرار السكين على حلقه. {إنَّا كذلك نَجْزي المحسنين}: في عبادتنا، المقدِّمين رضانا على شهواتِ أنفسهم.