تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 103

فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚ
تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔ En
جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا
En
غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیل علیہ السلام اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیم علیہ السلام ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا أسْلَما}؛ أي: إبراهيم وابنه إسماعيل: إبراهيم جازماً بقتل ابنه وثمرةِ فؤادِهِ امتثالاً لأمر ربِّه وخوفاً من عقابه، والابن قد وطَّن نفسه على الصبر، وهانتْ عليه في طاعة ربِّه ورضا والده، {وَتَلَّه للجبينِ}؛ أي: تلَّ إبراهيمُ إسماعيلَ على جبينِهِ لِيُضْجِعَه فيذبَحَه، وقد انكبَّ لوجهِهِ؛ لئلاَّ ينظرَ وقت الذبح إلى وجهِهِ.