تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 77

اَوَ لَمۡ یَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾
اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے۔ En
کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا
En
کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ نطفے سے پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال تعالى: {أوَلَم يَرَ الإنسانُ}: المنكِرُ للبعث أو الشاكُّ فيه أمراً يفيدُه اليقينَ التامَّ بوقوعه، وهو ابتداءُ خلقِهِ {من نطفةٍ}، ثم تنقُّلُه في الأطوار شيئاً فشيئاً، حتى كبر وشبَّ وتمَّ عقلُه واستتبَّ؛ {فإذا هو خصيمٌ مبينٌ}: بعد أنْ كان ابتداءُ خلقِهِ من نطفةٍ؛ فلينظرِ التفاوتَ بين هاتين الحالتين، ولْيعلمْ أنَّ الذي أنشأه من العدم قادرٌ على أن يعيدَه بعدما تفرَّق وتمزَّق من باب أولى.