تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے رسول! جھٹلانے والوں کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں یہاں ”باتوں“ سے مراد وہ باتیں ہے جن پر سیاق آیت دلالت کرتا ہے، یعنی ہر وہ بات جو رسول اور اس کی لائی ہوئی کتاب میں عیب لگاتی ہو۔ یعنی آپ کا دل ان کے غم میں مشغول نہ ہو ﴿اِنَّانَعْلَمُمَایُسِرُّوْنَوَمَایُعْلِنُوْنَ ﴾”یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں۔“ اس لیے ہم ان کو اپنے علم کے مطابق جزاوسزا دیں گے۔ ان کی باتیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فلا يَحْزُنْكَ يا أيُّها الرسولُ قول المكذِّبين، والمرادُ بالقول ما دلَّ عليه السياقُ، كلُّ قول يَقْدَحون فيه في الرسول أو فيما جاء به؛ أي: فلا تَشْغَلْ قَلْبَكَ بالحزن عليهم. {إنَّا نعلمُ ما يُسِرُّونَ وما يُعْلِنونَ}؛ فنجازِيهم على حسبِ عِلْمِنا بهم، وإلاَّ؛ فقولُهم لا يضرُّك شيئاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔