تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 76

فَلَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّا نَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۶﴾
پس ان کی بات تجھے غم زدہ نہ کرے، بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ En
تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں۔ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے
En
پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے رسول! جھٹلانے والوں کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں یہاں باتوں سے مراد وہ باتیں ہے جن پر سیاق آیت دلالت کرتا ہے، یعنی ہر وہ بات جو رسول اور اس کی لائی ہوئی کتاب میں عیب لگاتی ہو۔ یعنی آپ کا دل ان کے غم میں مشغول نہ ہو ﴿اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کو اپنے علم کے مطابق جزاوسزا دیں گے۔ ان کی باتیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فلا يَحْزُنْكَ يا أيُّها الرسولُ قول المكذِّبين، والمرادُ بالقول ما دلَّ عليه السياقُ، كلُّ قول يَقْدَحون فيه في الرسول أو فيما جاء به؛ أي: فلا تَشْغَلْ قَلْبَكَ بالحزن عليهم. {إنَّا نعلمُ ما يُسِرُّونَ وما يُعْلِنونَ}؛ فنجازِيهم على حسبِ عِلْمِنا بهم، وإلاَّ؛ فقولُهم لا يضرُّك شيئاً.