تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 71

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا خَلَقۡنَا لَہُمۡ مِّمَّا عَمِلَتۡ اَیۡدِیۡنَاۤ اَنۡعَامًا فَہُمۡ لَہَا مٰلِکُوۡنَ ﴿۷۱﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔ En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں
En
کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے (بھی) پیدا کر دیئے، جن کے یہ مالک ہوگئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لیے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لیے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشیوں میں ان کے لیے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غوروفکر سے خالی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمُرُ تعالى العباد بالنظر إلى ما سَخَّر لهم من الأنعام وذلَّلها وجَعَلَهم مالكينَ لها مطاوعةً لهم في كلِّ أمرٍ يريدونَه منها، وأنَّه جعل لهم فيها منافعَ كثيرةً من حَمْلِهم وحَمْل أثقالِهِم ومحامِلِهم وأمْتِعَتِهم من محلٍّ إلى محلٍّ، ومن أكْلِهِم منها، وفيها دفءٌ، ومن أوبارِها وأصوافها وأشعارِها أثاثاً ومتاعاً إلى حينٍ، وفيها زينةٌ وجمالٌ وغيرُ ذلك من المنافع المشاهدة منها. {أفلا يشكرونَ} اللهَ تعالى الذي أنعم بهذه النعم، ويخلِصونَ له العبادةَ، ولا يتمتَّعون بها تمتُّعاً خالياً من العبرة والفكرة؟!