تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 70

لِّیُنۡذِرَ مَنۡ کَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۰﴾
تاکہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر بات ثابت ہو جائے۔ En
تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے
En
تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لِيُنذِرَ مَن كان حَيًّا}؛ أي: حيَّ القلب واعِيَه؛ فهو الذي يزكو على هذا القرآن، وهو الذي يزداد من العلم منه والعمل، ويكون القرآنُ لقلبِهِ بمنزلة المطرِ للأرض الطيِّبة الزاكية، {ويَحِقَّ القولُ على الكافرينَ}: لأنَّهم قامت عليهم به حُجَّةُ الله وانقطع احتجاجُهم، فلم يبقَ لهم أدنى عذرٍ وشبهةٍ يُدلون بها.