تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
النفخة الأولى هي نفخةُ الفزع والموت. وهذه نفخةُ البعثِ والنشور؛ فإذا نُفِخَ في الصور؛ خرجوا {من الأجداث} والقبور {يَنْسِلون} إلى ربِّهم؛ أي: يسرعون للحضور بين يديه، لا يتمكَّنونَ من التأنِّي والتأخُّر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔