تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 50

فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ تَوۡصِیَۃً وَّ لَاۤ اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
پھر وہ نہ کسی وصیت کی طاقت رکھیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئیں گے۔ En
پھر نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے
En
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ تَوْصِیَةً وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإذا أخذتُهم وقتَ غفلَتِهِم؛ فإنَّهم لا يُنظرونَ ولا يُمهلون؛ {فلا يستطيعون توصيةً}؛ أي: لا قليلة ولا كثيرة، {ولا إلى أهْلِهِم يَرْجِعونَ}.