تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ صراط مستقیم ﴿تَنْزِیْلَالْ٘عَزِیْزِالرَّحِیْمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الْ٘عَزِیْزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِیْمِ﴾ پر ختم فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الصراط المستقيم {تنزيلَ العزيزِ الرَّحيم}؛ فهو الذي أنزلَ به كتابَه وأنزلَه طريقاً لعبادِهِ موصلاً لهم إليه، فحماه بعزَّته عن التغيير والتبديل، ورَحِمَ به عبادَه رحمةً اتَّصلتْ بهم حتى أوصلتْهم إلى دار رحمته، ولهذا ختم الآية بهذين الاسمين الكريمين العزيز الرحيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔