(آیت 5) {تَنْزِيْلَالْعَزِيْزِالرَّحِيْمِ:} یعنی یہ کسی بے اختیار اور بے بس شخص کا کلام نہیں جس کے جھٹلانے کی کوئی پروا نہ ہو، بلکہ اس اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں نہ کوئی اپنا کلام لا سکتا ہے نہ اس کے کلام کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے اور نہ اسے جھٹلا کر کوئی اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بے حد رحم والا بھی ہے کہ اس نے تمھاری ہدایت کے لیے رسول بھیجا، کتاب نازل فرمائی، پھر تمھیں مہلت دی اور جھٹلانے پر فوراً نہیں پکڑا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی اس اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو عزیز ہے یعنی اس کا انکار اور اس کے رسول کو جھوٹا کرنے والے سے انتقام لینے پر قادر ہے رحیم ہے۔ یعنی جو اس پر ایمان لائے گا اور اس کا بندہ بن کر رہے گا اس کے لئے نہایت مہربان۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ جو غالب اور رحم کرنے والے کا نازل [4] کردہ ہے۔
[4] یعنی اس قرآن حکیم کو نازل کرنے والا کوئی کمزور قسم کا ناصح نہیں ہے جس نے کچھ احکام اور نصائح بھیج دیئے ہوں۔ جسے اگر تم قبول کر لو تو اچھا ہے اور اگر نظر انداز کر دو تو بھی تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ بلکہ اس کا نازل کرنے والا فرمانروائے کائنات ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور وہ رحیم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے تمہاری رہنمائی کے لئے یہ قرآن اور یہ نبی بھیج کر تم پر بہت مہربانی فرمائی ہے۔ تاکہ تم لوگ گمراہیوں سے بچ کر دنیا و آخرت کی فلاح سے ہمکنار ہو سکو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ صراط مستقیم ﴿تَنْزِیْلَالْ٘عَزِیْزِالرَّحِیْمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الْ٘عَزِیْزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِیْمِ﴾ پر ختم فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الصراط المستقيم {تنزيلَ العزيزِ الرَّحيم}؛ فهو الذي أنزلَ به كتابَه وأنزلَه طريقاً لعبادِهِ موصلاً لهم إليه، فحماه بعزَّته عن التغيير والتبديل، ورَحِمَ به عبادَه رحمةً اتَّصلتْ بهم حتى أوصلتْهم إلى دار رحمته، ولهذا ختم الآية بهذين الاسمين الكريمين العزيز الرحيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔