تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَجَعَلْنَافِیْهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرْنَافِیْهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَالْعُیُوْنِ﴾”چشمے“ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجَعَلْنا فيها}؛ أي: في تلك الأرض الميتة {جَنَّاتٍ}؛ أي: بساتين فيها أشجارٌ كثيرةٌ، وخصوصاً النخيل والأعناب، اللذان هما أشرف الأشجار، {وفجَّرْنا فيها}؛ أي: في الأرض {من العيون}: جعلنا في الارض تلكَ الأشجارَ والنخيل والأعناب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔