تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 34

وَ جَعَلۡنَا فِیۡہَا جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ وَّ فَجَّرۡنَا فِیۡہَا مِنَ الۡعُیُوۡنِ ﴿ۙ۳۴﴾
اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ بنائے اور ان میں کئی چشمے پھاڑ نکالے۔ En
اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے
En
اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے، اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَجَعَلْنَا فِیْهَا یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرْنَا فِیْهَا اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الْعُیُوْنِ چشمے ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجَعَلْنا فيها}؛ أي: في تلك الأرض الميتة {جَنَّاتٍ}؛ أي: بساتين فيها أشجارٌ كثيرةٌ، وخصوصاً النخيل والأعناب، اللذان هما أشرف الأشجار، {وفجَّرْنا فيها}؛ أي: في الأرض {من العيون}: جعلنا في الارض تلكَ الأشجارَ والنخيل والأعناب.