تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاٰیَةٌلَّهُمُ ﴾”ان کے لیے ایک نشانی ہے۔“ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الْاَرْضُالْمَیْتَةُ ﴾”مردہ زمین“ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخْرَجْنَامِنْهَاحَبًّافَمِنْهُیَ٘اْكُلُوْنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وآيةٌ لهم}: على البعثِ والنُّشور والقيام بين يدي الله تعالى للجزاء على الأعمال هذه {الأرضُ المَيْتَةُ}: أنزل الله عليها المطرَ فأحْياها بعد موتها، {وأخْرَجْنا منها حَبًّا فمنه يأكُلونَ}: من جميع أصناف الزُّروع ومن جميع أصناف النباتِ التي تأكُلُه أنعامُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔