تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 33

وَ اٰیَۃٌ لَّہُمُ الۡاَرۡضُ الۡمَیۡتَۃُ ۚۖ اَحۡیَیۡنٰہَا وَ اَخۡرَجۡنَا مِنۡہَا حَبًّا فَمِنۡہُ یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اور ان کے لیے ایک عظیم نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اسے زندہ کیا او ر اس سے غلہ نکالا تو وہ اسی میں سے کھاتے ہیں۔ En
اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں
En
اور ان کے لئے ایک نشانی (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زنده کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وه کھاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰیَةٌ لَّهُمُ ان کے لیے ایک نشانی ہے۔ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ مردہ زمین جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَ٘اْكُلُوْنَ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وآيةٌ لهم}: على البعثِ والنُّشور والقيام بين يدي الله تعالى للجزاء على الأعمال هذه {الأرضُ المَيْتَةُ}: أنزل الله عليها المطرَ فأحْياها بعد موتها، {وأخْرَجْنا منها حَبًّا فمنه يأكُلونَ}: من جميع أصناف الزُّروع ومن جميع أصناف النباتِ التي تأكُلُه أنعامُهم.