تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤاَنْزَلْنَاعَلٰىقَوْمِهٖمِنْۢبَعْدِهٖمِنْجُنْدٍمِّنَالسَّمَآءِ ﴾”اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔“ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَاكُنَّامُنْزِلِیْ٘نَ ﴾”اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔“ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله في عقوبة قومه: {وما أنزَلْنا على قومِهِ من بعدِهِ من جندٍ من السماءِ}؛ أي: ما احْتَجْنا أن نتكَلَّفَ في عقوبتهم فننزلَ جنداً من السماء لإتلافِهِم. {وما كُنَّا منزِلينَ}: لعدم الحاجةِ إلى ذلك، وعظمة اقتدارِ الله تعالى، وشدَّةِ ضعفِ بني آدم، وأنَّهم أدنى شيء يصيبهم من عذاب الله يكفيهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔