ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 28

وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا کُنَّا مُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے۔ En
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اُتارا اور نہ ہم اُتارنے والے تھے ہی
En
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا، اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28){ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ …:} اس قوم کے بالکل حقیر اور بے وقعت ہونے کے اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی جب ہم کسی قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں تو فرشتوں کی فوج بھیجتے ہیں، کیونکہ اس کام کے لیے اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک فرشتے کی ایک چیخ ہی کافی ہوتی ہے۔ ہاں، اپنے مومن بندوں کی مدد کے لیے ہم ہزاروں فرشتے نازل کر دیتے ہیں جو ان کے دل کو مضبوط رکھتے ہیں، اور اس وقت کفار کو عذاب آسمان کے فرشتوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ ایمان والوں کے ہاتھوں سے دیا جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 یعنی حبیب نجار کے قتل کے بعد ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یہ اس قوم کی حقیر شان کی طرف اشارہ ہے۔ 28۔ 2 یعنی جس قوم کی ہلاکت کسی دوسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے وہاں ہم فرشتے نازل بھی نہیں کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، نہ ہی ہمیں لشکر اتارنے کی حاجت تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنْزِلِیْ٘نَ اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله في عقوبة قومه: {وما أنزَلْنا على قومِهِ من بعدِهِ من جندٍ من السماءِ}؛ أي: ما احْتَجْنا أن نتكَلَّفَ في عقوبتهم فننزلَ جنداً من السماء لإتلافِهِم. {وما كُنَّا منزِلينَ}: لعدم الحاجةِ إلى ذلك، وعظمة اقتدارِ الله تعالى، وشدَّةِ ضعفِ بني آدم، وأنَّهم أدنى شيء يصيبهم من عذاب الله يكفيهم.