تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 7

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿٪۷﴾
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے
En
جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجْرٌؔ كَبِیْرٌ اور بڑا اجر ہے۔ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر أنَّ الناس انقسموا بحسب طاعة الشيطان وعدمِها إلى قسمين، وذَكَرَ جزاءَ كلٍّ منهما، فقال: {الذين كفروا}؛ أي: جحدوا ما جاءتْ به الرسلُ ودلَّت عليه الكتبُ {لهم عذابٌ شديدٌ}: في نار جهنَّم، شديدٌ في ذاتِهِ ووصفِهِ، وأنَّهم خالدون فيها أبداً، {والذين آمنوا}: بقلوبِهِم بما دعا الله إلى الإيمان به، {وعملوا} ـ بمقتضى ذلك الإيمان بجوارِحِهم ـ الأعمالَ الصالحةَ {لهم مغفرةٌ}: لذُنوبهم، يزولُ بها عنهم الشرُّ والمكروه، {وأجرٌ كبيرٌ}: يحصُلُ به المطلوبُ.