ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 7

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿٪۷﴾
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے
En
جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ { اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ:} اس آیت میں اپنے فرماں بردار اور نافرمان بندوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔
➋ { لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌ: مَغْفِرَةٌ } پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی بخشش کیا گیا ہے۔ { اَجْرٌ كَبِيْرٌ } (بہت بڑا اجر) یعنی ان کے لیے ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اور ان کی سوچ اور فکر سے بھی بڑا اجر ہے۔ یہاں {اَجْرٌ كَبِيْرٌ } سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ، عمل صالح بیان کر کے اس کی اہمیت کو واضح کردیا ہے تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو لوگ کافر ہوئے انہیں سخت عذاب ہو گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا [11] اجر ہے۔
[11] یعنی ایماندار نیک اعمال کرنے والوں کے گناہ تو سارے کے سارے معاف کر دیئے جائیں گے۔ رہے نیک اعمال تو ان کا بدلہ بھی اعمال کے مطابق نہیں بلکہ ان سے بہت زیادہ دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ٭٭
اوپر بیان گزرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لیے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس لیے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہو جائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر و ثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہیئے۔ مقدرات اللہ جاری ہو چکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم کا حکمت سے خالی نہیں۔ لوگوں کے تمام افعال اس پر واضح ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس پر وہ نور پڑ گیا وہ دنیا میں آ کر سیدھی راہ چلا اور جسے اس دن وہ نور نہ ملا وہ دنیا میں آ کر بھی ہدایت سے بہرہ ورہ نہ ہو سکا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل کر خشک ہو گیا۔ ۱؎ [مسند احمد::176/2حسن]‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا اللہ کے لیے ہر تعریف ہے جو گمراہی سے ہدایت پر لاتا ہے اور جس پر چاہتا ہے گمراہی خلط ملط کر دیتا ہے ۱؎ [طبرانی کبیر:220/5،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجْرٌؔ كَبِیْرٌ اور بڑا اجر ہے۔ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر أنَّ الناس انقسموا بحسب طاعة الشيطان وعدمِها إلى قسمين، وذَكَرَ جزاءَ كلٍّ منهما، فقال: {الذين كفروا}؛ أي: جحدوا ما جاءتْ به الرسلُ ودلَّت عليه الكتبُ {لهم عذابٌ شديدٌ}: في نار جهنَّم، شديدٌ في ذاتِهِ ووصفِهِ، وأنَّهم خالدون فيها أبداً، {والذين آمنوا}: بقلوبِهِم بما دعا الله إلى الإيمان به، {وعملوا} ـ بمقتضى ذلك الإيمان بجوارِحِهم ـ الأعمالَ الصالحةَ {لهم مغفرةٌ}: لذُنوبهم، يزولُ بها عنهم الشرُّ والمكروه، {وأجرٌ كبيرٌ}: يحصُلُ به المطلوبُ.