اور اگر اللہ لوگوں کو اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا تو اس کی پشت پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آجائے تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔
En
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے، سو جب ان کی وه میعاد آپہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَوْیُؤَاخِذُاللّٰهُالنَّاسَبِمَاكَسَبُوْا﴾”اور لوگوں نے جو گناہ کیے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا“﴿مَاتَرَكَعَلٰىظَهْرِهَامِنْدَآبَّةٍ ﴾”تو روئے زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے۔ ﴿وَّلٰكِنْ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿یُّؤَخِّ٘رُهُمْاِلٰۤىاَجَلٍمُّ٘سَمًّى١ۚفَاِذَاجَآءَاَجَلُهُمْفَاِنَّاللّٰهَكَانَبِعِبَادِهٖبَصِیْرًا ﴾”اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے، پھر جب ان کا وقت آ جائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“ پس اللہ اپنے علم کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ تعالى كمالَ حلمِهِ وشدَّةَ إمهاله وإنظارِهِ أربابَ الجرائم والذنوب، فقال: {ولو يؤاخِذُ اللهُ الناس بما كَسَبوا}: من الذنوب {ما ترك على ظَهْرِها من دابَّةٍ}؛ أي: لاستوعبت العقوبةُ حتى الحيواناتِ غيرَ المكلَّفةِ. {ولكن}: يُمهلهم تعالى ولا يُهملهم ، {يؤخِّرُهم إلى أجلٍ مسمًّى فإذا جاء أجلُهم فإنَّ الله كانَ بعبادِهِ بصيراً}: فيجازيهم بحسبِ ما عَلِمَهُ منهم من خيرٍ وشرٍّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔