تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 33

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾
ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ان میں ریشم ہوگا۔ En
(ان لوگوں کے لئے) بہشتِ جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی
En
وه باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے۔ اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا۠ وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد اقامت (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ اور وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤْلُؤًا موتی جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر جزاء الذين أوْرَثَهم كتابَه، {جناتُ عدنٍ يَدْخُلونها}؛ أي: جناتٌ مشتملاتٌ على الأشجار والظلِّ والظليل والحدائق الحسنة والأنهار المتدفِّقة والقصور العالية والمنازلِ المزخرفةِ في أبدٍ لا يزول وعيش لا يَنْفَدُ. والعَدْنُ: الإقامة؛ فجنات عدنٍ؛ أي: جنات إقامة، أضافها للإقامة لأنَّ الإقامةَ والخلودَ وصفُها ووصفُ أهلها، {يُحَلَّوْنَ فيها من أساورَ من ذهبٍ}: وهو الحُلِيُّ الذي يُجعل في اليدين على ما يحبُّون ويرونَ أنَّه أحسنُ من غيره، الرجال والنساء في الحلية في الجنة سواء. {و} يحلَّوْن فيها {لؤلؤاً}: يُنْظَمُ في ثيابهم وأجسادهم، {ولباسُهُم فيها حريرٌ}: من سندس ومن إستبرقٍ أخضر.