تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 32

ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾
پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، اللہ کے حکم سے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔ En
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے
En
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں،، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿بِـاِذْنِ اللّٰهِ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْ٘فَضْلُ الْكَبِیْرُ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ثم أوْرَثْنا الكتاب الذين اصْطَفَيْنا من عبادِنا}: وهم هذه الأمة. {فمنهم ظالمٌ لنفسِهِ}: بالمعاصي التي هي دون الكفرِ، {ومنهم مقتصدٌ}: مقتصرٌ على ما يجب عليه، تاركٌ للمحرَّم، {ومنهم سابقٌ بالخيرات}؛ أي: سَارَعَ فيها، واجْتَهَدَ فسبق غيره، وهو المؤدي للفرائض، المكثر من النوافل، التارك للمحرم والمكروه؛ فكلهم اصطفاه الله تعالى لوراثة هذا الكتاب، وإن تفاوتتْ مراتِبُهم وتميَّزت أحوالُهم؛ فلكل منهم قسطٌ من وراثتِهِ، حتى الظالم لنفسه؛ فإنَّ ما معه من أصل الإيمان وعلوم الإيمان وأعمال الإيمان من وراثة الكتاب؛ لأنَّ المراد بوراثة الكتاب وراثةُ علمِهِ وعمله ودراسةُ ألفاظِهِ واستخراج معانيه، وقوله: {بإذن الله}: راجعٌ إلى السابق إلى الخيرات ؛ لئلاَّ يغترَّ بعمله، بل ما سَبَقَ إلى الخيرات إلاَّ بتوفيق الله تعالى ومعونته؛ فينبغي له أن يشتغلَ بشكر الله تعالى على ما أنعم به عليه. {ذلك هو الفضلُ الكبيرُ}؛ أي: وراثة الكتاب الجليل لمن اصطفى تعالى من عباده هو الفضلُ الكبيرُ الذي جميع النعم بالنسبة إليه كالعدم، فأجلُّ النعم على الإطلاق وأكبرُ الفضل وراثةُ هذا الكتاب.