تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 24

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کو ئی امت نہیںمگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔ En
ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے
En
ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈر سنانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّـاۤ٘ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّبے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔
﴿بَشِیْرًا آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِیْرًا اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنْ اُمَّةٍ کوئی بھی امت سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ (الانفال:8؍42) تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنا أرسلناك بالحقِّ}؛ أي: مجرَّدُ إرسالنا إيَّاك بالحقِّ؛ لأنَّ الله تعالى بَعَثَكَ على حين فترةٍ من الرسل وطموسٍ من السُّبل واندراسٍ من العلم وضرورةٍ عظيمةٍ إلى بعثك، فبعثَكَ اللَّه رحمةً للعالمين، وكذلك ما بَعَثْناك به من الدين القويم والصراطِ المستقيم حقٌّ لا باطل، وكذلك ما أرسلناك به من هذا القرآن العظيم وما اشتملَ عليه من الذِّكْرِ الحكيم حقٌّ وصدقٌ، {بشيراً}: لمن أطاعَكَ بثواب الله العاجل والآجل {ونذيراً}: لمن عصاك بعقاب الله العاجل والآجل، ولست ببدعٍ من الرسل. فما {منْ أمَّةٍ}: من الأمم الماضية والقرون الخالية {إلاَّ خلا فيها نذيرٌ}: يقيمُ عليهم حجَّةَ الله؛ {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عن بَيِّنَةٍ ويَحْيا مَنْ حَيَّ عن بَيِّنَةٍ}.