اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کو ئی امت نہیںمگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔
En
ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے
En
ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈر سنانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 24) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا:} حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ہے۔ یعنی اے رسول! ہم نے تجھے حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ جو تجھ پر ایمان لائیں انھیں جنت کی بشارت دے اور جو تجھے جھٹلائیں انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بشارت اور تسلی ہے۔
➋ { وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ:} اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی رحمت کا اور اپنے فضل کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کو اندھیروں میں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا کہ ان کے لیے سیدھے اور غلط راستے کی نشان دہی نہ کرے، بلکہ اس سے پہلے جو قوم بھی گزری اس نے اس کی طرف کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور بھیجا، خواہ وہ نبی یا رسول ہو، خواہ اس کا نائب دین کا کوئی عالم اور مبلغ ہو جس کے ذریعے سے رسول کی لائی ہوئی شریعت لوگوں تک پہنچ جائے۔
➋ { وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ:} اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی رحمت کا اور اپنے فضل کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کو اندھیروں میں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا کہ ان کے لیے سیدھے اور غلط راستے کی نشان دہی نہ کرے، بلکہ اس سے پہلے جو قوم بھی گزری اس نے اس کی طرف کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور بھیجا، خواہ وہ نبی یا رسول ہو، خواہ اس کا نائب دین کا کوئی عالم اور مبلغ ہو جس کے ذریعے سے رسول کی لائی ہوئی شریعت لوگوں تک پہنچ جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ یقیناً ہم نے آپ کو سچا دین دے کر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت [30] ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔
[30] اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر امت اور بستی میں اللہ نے کوئی نہ کوئی نبی یا رسول ضرور بھیجا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ امت یا وہ لوگ ہیں جن تک کسی نبی کی تعلیم نہ پہنچ سکی ہو۔ خواہ اس کی وجہ فاصلہ کی دوری ہو یا مدت کی دوری ہو۔ بالفاظ دیگر تمام انسانوں تک اللہ کی دعوت کی آواز یقینی طور پر پہنچ چکی ہے خواہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیاجاتا ہے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لیے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لا سکتا تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے، ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» ۱؎ [13-الرعد:7] اور جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16-النحل:36]، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کر لیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے؟ «واللہ اعلم»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّـاۤ٘ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ ﴾”بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔“ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔
﴿بَشِیْرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِیْرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنْ اُمَّةٍ﴾ ”کوئی بھی امت“ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ ﴾ ”مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے“ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ﴾ (الانفال:8؍42) ”تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنا أرسلناك بالحقِّ}؛ أي: مجرَّدُ إرسالنا إيَّاك بالحقِّ؛ لأنَّ الله تعالى بَعَثَكَ على حين فترةٍ من الرسل وطموسٍ من السُّبل واندراسٍ من العلم وضرورةٍ عظيمةٍ إلى بعثك، فبعثَكَ اللَّه رحمةً للعالمين، وكذلك ما بَعَثْناك به من الدين القويم والصراطِ المستقيم حقٌّ لا باطل، وكذلك ما أرسلناك به من هذا القرآن العظيم وما اشتملَ عليه من الذِّكْرِ الحكيم حقٌّ وصدقٌ، {بشيراً}: لمن أطاعَكَ بثواب الله العاجل والآجل {ونذيراً}: لمن عصاك بعقاب الله العاجل والآجل، ولست ببدعٍ من الرسل. فما {منْ أمَّةٍ}: من الأمم الماضية والقرون الخالية {إلاَّ خلا فيها نذيرٌ}: يقيمُ عليهم حجَّةَ الله؛ {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عن بَيِّنَةٍ ويَحْيا مَنْ حَيَّ عن بَيِّنَةٍ}.