جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے کسی بھی رحمت میں سے کھول دے تو اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے واﻻ نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے واﻻ نہیں اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿مَایَفْ٘تَحِاللّٰهُلِلنَّاسِمِنْرَّحْمَةٍفَلَامُمْسِكَلَهَا ﴾”اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔“ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ﴿فَلَامُرْسِلَلَهٗمِنْۢبَعْدِهٖ﴾”تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں۔“ اس لیے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ ﴿وَهُوَالْ٘عَزِیْزُ ﴾ اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے ﴿الْحَكِیْمُ ﴾”حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ ہر چیزکو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ انفرادَه تعالى بالتدبيرِ والعطاء والمنع، فقال: {ما يَفْتَحِ اللهُ للناس من رحمةٍ فلا مُمْسِكَ لها وما يُمْسِكْ}: من رحمتِهِ عنهم {فلا مرسلَ له من بعدِهِ}: فهذا يوجب التعلُّقَ بالله تعالى والافتقارَ إليه من جميع الوجوه، وأنْ لا يُدعى إلاَّ هو ولا يُخاف ويُرجى إلاَّ هو. {وهو العزيز}: الذي قَهَرَ الأشياءَ كلَّها. {الحكيمُ}: الذي يضع الأشياءَ مواضِعَها، ويُنْزِلُها منازلها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔