سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جو دو دو اور تین تین اور چار چار پروں والے ہیں، وہ (مخلوق کی) بناوٹ میں جو چاہتا ہے اضافہ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداءً) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے واﻻ ہے، مخلوق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنی ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت اقتدار، بے پایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطۂ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کاتذکرہ کیا کہ بے شک وہی ﴿جَاعِلِالْمَلٰٓىِٕكَةِرُسُلًا﴾”فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے“ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لیے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لیے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لیے کامل اطاعت اور اس کے حکم کے سامنے ان کے سرتسلیم خم کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿لَّایَعْصُوْنَاللّٰهَمَاۤاَمَرَهُمْوَیَفْعَلُوْنَمَایُؤْمَرُوْنَ ﴾ (التحریم: 66؍6) ”وہ اللہ کی حکم عدولی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔“
چونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، کائنات کی تدبیر کرتے ہیں اور تدبیر کائنات کا معاملہ ان کے سپرد کر رکھا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت اور ان کی سرعت رفتار کا ذکر کیا، نیز آگاہ فرمایا کہ اس نے ان فرشتوں کو ﴿اُولِیْۤاَجْنِحَةٍ ﴾”پروں والے“ بنایا ہے، جن کے ذریعے سے یہ فرشتے پرواز کرتے ہیں تاکہ نہایت سرعت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کر سکیں۔ ﴿مَّثْنٰىوَثُلٰثَوَرُبٰ٘عَ ﴾ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ان فرشتوں کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں ﴿یَزِیْدُفِیالْخَلْقِمَایَشَآءُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تخلیق کی بعض صفات، مثلاً: قوت میں، حسن میں، اعضاء میں، حسن آواز اور لذت ترنّم میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اضافہ بخشا ہے۔ ﴿اِنَّاللّٰهَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ ﴾ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت کو نافذ کرتا ہے، اس کی قدرت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مخلوقات میں ایک دوسرے پر تخلیق میں اضافہ بھی اس کی قدرت کے تحت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يمدح [اللَّه] تعالى نفسه الكريمة المقدَّسةَ على خلقهِ السماواتِ والأرضَ وما اشتَمَلَتا عليه من المخلوقات؛ لأنَّ ذلك دليلٌ على كمال قدرتِهِ وسَعة ملكِهِ وعموم رحمتِهِ وبديع حكمته وإحاطةِ علمه. ولمَّا ذَكَرَ الخلقَ؛ ذَكَرَ بعده ما يتضمَّنُ الأمر، وهو أنه جعل {الملائكةَ رسلاً}: في تدبيرِ أوامرِهِ القدريَّة ووسائطَ بينَه وبين خلقِهِ في تبليغ أوامره الدينيَّة. وفي ذِكْرِهِ أنَّه جعل الملائكة رسلاً ولم يستثنِ منهم أحداً دليلٌ على كمال طاعتهم لربِّهم وانقيادِهِم لأمرِهِ؛ كما قال تعالى: {لا يعصونَ الله ما أمَرَهم ويفعلون ما يُؤمرون}. ولما كانت الملائكةُ مدبِّراتٍ بإذن الله ما جَعَلَهم الله موكَّلين فيه؛ ذَكَرَ قُوَّتَهم على ذلك وسرعة سيرِهِم؛ بأن جَعَلَهم {أولي أجنحةٍ}: تطير بها فتسرعُ بتنفيذ ما أمرت به، {مثنى وثلاث ورباع}؛ أي: منهم من له جناحان وثلاثة وأربعة بحسب ما اقتضتْه حكمتُه. {يزيدُ في الخَلْقِ ما يشاءُ}؛ أي: يزيد بعضَ مخلوقاتِهِ على بعض في صفة خلقِها وفي القوَّة وفي الحسن وفي زيادة الأعضاء المعهودةِ وفي حسن الأصوات ولذَّةِ النغماتِ. {إنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ}: فقدرتُه تعالى تأتي على ما يشاؤه، ولا يستعصي عليها شيءٌ، ومن ذلك زيادة مخلوقاتِهِ بعضها على بعض.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔