تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 16

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾
اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے۔ En
اگر چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے
En
اگر وه چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کردے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَیَ٘اْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن يَشَأْ يُذْهِبْكم ويأتِ بخلقٍ جديدٍ}: يُحتمل أنَّ المرادَ: إنْ يشأ يُذْهِبْكم أيُّها الناس ويأتِ بغيركم من الناس أطوع لله منكم، ويكون في هذا تهديدٌ لهم بالهلاك والإبادة، وأنَّ مشيئتَه غيرُ قاصرة عن ذلك. ويُحتمل أنَّ المرادَ بذلك إثباتُ البعث والنُّشور، وأنَّ مشيئةَ الله تعالى نافذةٌ في كلِّ شيءٍ، وفي إعادتكم بعد موتكم خلقاً جديداً، ولكن لذلك الوقت أجلٌ قدَّره الله لا يتقدَّم عنه ولا يتأخَّر.