تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 44

وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾
حالانکہ ہم نے نہ انھیں کوئی کتابیں دیں جنھیں وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا بھیجا۔ En
اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی
En
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔
﴿وَمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا۠ اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍ اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا بيَّن ما ردُّوا به الحقَّ، وأنَّها أقوالٌ دون مرتبة الشُّبهة، فضلاً أن تكون حجَّةً؛ ذكر أنَّهم وإنْ أراد أحدٌ أن يحتجَّ لهم؛ فإنَّهم لا مستند لهم ولا لهم شيءٌ يعتمدونَ عليه أصلاً، فقال: {وما آتَيْناهم من كتبٍ يدرسونَها}: حتى تكون عمدةً لهم، {وما أرسَلْنا إليهم قبلَكَ من نذيرٍ}: حتى يكونَ عندَهم من أقوالِهِ وأحوالِهِ ما يدفعون به ما جئتَهم به؛ فليس عندهم علمٌ ولا أثارَةٌ من علم.