ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 44

وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾
حالانکہ ہم نے نہ انھیں کوئی کتابیں دیں جنھیں وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا بھیجا۔ En
اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی
En
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) {وَ مَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا۠ …:} اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے انھیں ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی اجازت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں دی جو ان کے پاس موجود ہو اور وہ اسے پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ ہی ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف ایسا کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا ہے جو ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی تائید کرتا ہو۔ دیکھیے سورۂ روم (۳۵)، فاطر (۴۰)، زخرف (۲۱) اور سورۂ احقاف (۴) اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہماری طرف سے خاص ان کے لیے کوئی کتابیں نازل نہیں ہوئیں، نہ ہی آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا، اس لیے ضروری تھا کہ ان پر کتاب نازل ہو اور ان کی طرف پیغمبر مبعوث ہو، اسی لیے ہم نے آپ کو یہ قرآن دے کر ان کی طرف مبعوث فرمایا۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۳)۔