اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے، اور کاش! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا، جو لوگ کمزور سمجھے گئے تھے ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے ہوتے۔
En
اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿یَقُوْلُالَّذِیْنَاسْتُضْعِفُوْا ﴾”وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے“ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِیْنَاسْتَكْبَرُوْا ﴾”ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔“ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوْلَاۤاَنْتُمْلَكُنَّامُؤْمِنِیْنَ ﴾”اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔“ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى أنَّ ميعادَ المستعجلين بالعذابِ لابدَّ من وقوعه عند حلول أجله؛ ذكر هنا حالَهم في ذلك اليوم، وأنَّك لو رأيتَ حالَهم إذ وُقِفوا عند ربِّهم واجتمع الرؤساءُ والأتباعُ في الكفر والضَّلال؛ لرأيتَ أمراً عظيماً وهولاً جسيماً، ورأيت كيف يتراجع و {يرجِعُ بعضُهم إلى بعضٍ القولَ}، فيقول {الذين استُضْعِفوا}: وهم الأتباعُ، {للذين استَكْبَروا}: وهم القادةُ: {لولا أنتُم لَكُنَّا مؤمنينَ}: ولكنَّكُم حُلْتُم بيننا وبين الإيمان، وزيَّنْتُم لنا الكفرانَ ، فتبعناكم على ذلك، ومقصودُهم بذلك أن يكون العذابُ على الرؤساءِ دونهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔