تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾”کہہ دیجیے:“ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمْمِّؔیْعَادُیَوْمٍلَّاتَسْتَاْخِرُوْنَ۠عَنْهُسَاعَةًوَّلَاتَسْتَقْدِمُوْنَ۠ ﴾”تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔“ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} لهم مخبراً بوقت وقوعِهِ الذي لا شكَّ فيه: {لكم ميعادُ يوم لا تستأخِرونَ عنه ساعةً ولا تَسْتَقْدِمونَ}: فاحْذَروا ذلك اليوم وأعدُّوا له عدَّتَه.