تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 26

قُلۡ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفۡتَحُ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ ہُوَ الۡفَتَّاحُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۶﴾
کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے گا۔ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے
En
انہیں خبر دے دیجیئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرکے پھر ہم میں سچے فیصلے کردے گا۔ وه فیصلے چکانے واﻻ ہے اور دانا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں فرمایا: ﴿قُ٘لْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْ٘تَحُ بَیْنَنَا کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {قل يَجْمَعُ بينَنا ربُّنا ثم يفتحُ بينَنا}؛ أي: يحكم بينَنا حكماً يتبيَّن به الصادقُ من الكاذب، والمستحقُّ للثواب من المستحقِّ للعقاب وهو خير الفاتحين.