تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 25

قُلۡ لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَ لَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾
کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔ En
کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی
En
کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ کہہ دیجیے: انھیں ﴿لَّا تُ٘سْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَلَا نُ٘سْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} لهم: {لا تُسْألونَ عمَّا أجْرَمْنا ولا نسألُ عما تَعْمَلونَ}؛ أي: كلٌّ منَّا ومنكم له عمله، أنتم لا تُسألون عن إجرامِنا وذنوبِنا لو أذْنَبْنا، ونحنُ لا نُسألُ عن أعمالكم؛ فليكن المقصودُ منَّا ومنكم طَلَبَ الحقائق وسلوكَ طريق الإنصاف، ودَعوا ما كُنَّا نعملُ، ولا يكنْ مانعاً لكم من اتِّباع الحقِّ؛ فإنَّ أحكام الدُّنيا تجري على الظواهر، ويُتَّبَعُ فيها الحقُّ ويُجْتَنَبُ الباطلُ، وأما الأعمال؛ فلها دارٌ أخرى يَحْكُمُ فيها أحكمُ الحاكمين، ويفصِلُ بين المختصمين أعدلُ العادلين.