تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 13

یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾
وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ En
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
En
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمان علیہ السلام ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنْ مَّحَارِیْبَ قلعے اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِیْلَ اور مجسمے یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت، قدرت اور ان کا سلیمان علیہ السلام کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ اور لگن جیسے تالاب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ اے آل داود! نیک عمل کرو۔ اس سے مراد داؤ د علیہ السلام، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكْرًا یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ شکر سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأعمالُهم ؛ كلُّ ما شاء سليمان عَمِلوه؛ {من محاريبَ}: وهو كلُّ بناءٍ يُعقد وتحكم به الأبنية؛ فهذا فيه ذكرُ الأبنية الفخمة. {وتماثيلَ}؛ أي: صور الحيوانات والجمادات من إتقانِ صنعتهم، وقدرتِهِم على ذلك، وعملهم لسليمان. {وجفانٍ كالجوابِ}؛ أي: كالبرك الكبار يعملونها لسليمان للطعام؛ لأنَّه يحتاجُ إلى ما لا يحتاج إليه غيره. {و} يعملونَ له قدوراً {راسياتٍ}: لا تُزالُ عن أماكِنِها من عِظَمِها، فلما ذكر مِنَّتَه عليهم؛ أمَرَهم بشكرها، فقال: {اعْمَلوا آل داودَ}: وهم داودُ وأولادهُ وأهلُه؛ لأنَّ المنَّةَ على الجميع، وكثير من هذه المصالح عائدٌ لكلِّهم {شُكراً}: لله على ما أعطاهم، ومقابلةً لما أولاهم. {وقليلٌ من عبادي الشَّكورُ}: فأكثرُهم لم يشكُروا الله تعالى على ما أوْلاهم من نعمِهِ ودَفَعَ عنهم من النقم. والشكرُ: اعترافُ القلب بمنَّةِ الله تعالى، وتلقِّيها افتقاراً إليها، وصرفُها في طاعة الله تعالى، وصونُها عن صرفها في المعصية.