اور سلیمان کے لیے ہوا کو (تابع کردیا)، اس کا صبح کا چلنا ایک ماہ کا اور شام کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہایا، اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو اس کے سامنے اس کے رب کے اذن سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔
En
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزه چکھائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ د علیہ السلام پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَاشَ٘هْرٌ ﴾”اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔“ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَاشَ٘هْرٌ ﴾”اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔“ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلْنَالَهٗعَیْنَالْ٘قِطْرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنْیَّزِغْمِنْهُمْعَنْاَمْرِنَانُذِقْهُمِنْعَذَابِالسَّعِیْرِ ﴾”اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذَكَرَ فضلَه على داود عليه السلام؛ ذكر فضلَه على ابنه سليمان عليه الصلاة والسلام، وأنَّ الله سخَّر له الريح تجري بأمرِهِ وتحمِلُه وتحمِلُ جميعَ ما معه وتقطعُ المسافة البعيدةَ جدًّا في مدةٍ يسيرةٍ، فتسير في اليوم مسيرة شهرين: {غدوُّها شهرٌ}؛ أي: أول النهار إلى الزوال، {ورواحُها شهرٌ}: من الزَّوال إلى آخر النهار، {وأسَلْنا له عَيْنَ القِطْرِ}؛ أي: سخَّرْنا له عينَ النُّحاس وسهَّلْنا له الأسباب في استخراج ما يُستخرج منها من الأواني وغيرها، وسخَّرَ اللهُ له أيضاً الشياطين والجنَّ لا يقدِرون أن يستعصوا عن أمرِهِ، {ومن يَزِغْ منهم عن أمرِنا نُذِقْه من عذاب السعير}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔