تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 63

یَسۡـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا ﴿۶۳﴾
لوگ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو کہہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے، شاید قیامت قریب ہو۔ En
لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو
En
لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُ٘لْ آپ کہہ دیجیے۔ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَ٘رِیْبًا اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يستخبرك الناسُ عن الساعة استعجالاً لها، وبعضُهم تكذيباً لوقوعها وتعجيزاً للذي أخبر بها، {قُل} لهم: {إنَّما علمُها عند الله}؛ أي: لا يعلمُها إلاَّ الله؛ فليس لي ولا لغيري بها علمٌ، ومع هذا؛ فلا تستبطئوها، {وما يُدْريكَ لعلَّ الساعةَ تكونُ قريباً}.