تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 62

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۶۲﴾
اللہ کے طریقے کی طرح ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور تو اللہ کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ En
جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے
En
ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردوبدل نہ پائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَ٘نْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سُنَّةَ الله في الذين خَلَوْا من قبلُ}: أنَّ مَن تمادى في العصيانِ وتجرَّأ على الأذى ولم ينتهِ منه؛ فإنَّه يعاقَب عقوبةً بليغةً، {ولنْ تَجِدَ لسنَّةِ الله تبديلاً}؛ أي: تغييراً، بل سنته تعالى وعادتُه جاريةٌ مع الأسباب المقتضية لأسبابها.