تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 48

وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۴۸﴾
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان اور ان کی ایذا رسانی کی پروانہ کر اور اللہ پر بھروسا کر اور وکیل کی حیثیت سے اللہ کافی ہے۔ En
اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے
En
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَا تُ٘طِعِ الْ٘كٰفِرِیْنَ وَالْ٘مُنٰفِقِیْنَ اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعْ اَذٰىهُمْ اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَ٘فٰى بِاللّٰهِ وَؔكِیْلًا اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا كان ثَمَّ طائفةٌ من الناس مستعدةٌ للقيام بصدِّ الداعين إلى الله من الرسل وأتباعهم، وهم المنافقون الذين أظهروا الموافقةَ في الإيمان وهم كفرةٌ فجرةٌ في الباطن، والكفار ظاهراً وباطناً؛ نهى الله رسوله عن طاعتهم وحذره ذلك، فقال: {ولا تطع الكافرينَ والمنافقينَ}؛ أي: في كلِّ أمر يصدُّ عن سبيل الله، ولكن لا يقتضي هذا أذاهم، بل لا تُطِعْهُم، {ودَعْ أذاهم}: فإنَّ ذلك جالبٌ لهم وداعٍ إلى قبول الإسلام وإلى كفِّ كثير من أذيَّتِهِم له ولأهله، {وتوكَّلْ على الله}: في إتمام أمرِكَ وخذلانِ عدوِّك، {وكفى بالله وكيلاً}: تُوكَلُ إليه الأمور المهمَّة، فيقوم بها ويسهِّلُها على عبده.