تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 47

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا ﴿۴۷﴾
اور ایمان والوں کو خوش خبری دے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔ En
اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہوگا
En
آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وبشِّرِ المؤمنين بأنَّ لهم من الله فضلاً كبيراً}: ذكر في هذه الجملة المبشَّر، وهم المؤمنون، وعند ذِكْرِ الإيمان بمفردِهِ تدخُلُ فيه الأعمال الصالحة، وذَكَرَ المبشَّر به، وهو الفضلُ الكبيرُ؛ أي: العظيم الجليل الذي لا يقادَر قَدْرُهُ من النصر في الدنيا وهداية القلوب وغفران الذنوب وكشف الكروب وكثرة الأرزاق الدارَّة وحصول النعم السارَّة والفوز برضا ربِّهم وثوابه والنجاة من سخطه وعقابِهِ، وهذا مما ينشِّطُ العاملين أن يذكُرَ لهم من ثواب الله على أعمالهم ما به يستعينونَ على سلوك الصراط المستقيم، وهذا من جملةِ حِكَم الشرع: كما أنَّ من حِكَمه أن يَذْكُرَ في مقام الترهيب العقوباتِ المرتَّبةَ على ما يُرَهَّبُ منه؛ ليكون عوناً على الكفِّ عما حرم الله.