تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 41

یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔ En
اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو
En
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى المؤمنين بذكره ذكراً كثيراً؛ من تهليل وتحميد وتسبيح وتكبير وغير ذلك من كل قولٍ فيه قُربة إلى الله، وأقلُّ ذلك أن يلازِمَ الإنسان أوراد الصباح والمساء وأدبار الصلوات الخمس وعند العوارضِ والأسباب، وينبغي مداومة ذلك في جميع الأوقات على جميع الأحوال؛ فإنَّ ذلك عبادةٌ يسبِقُ بها العامل وهو مستريحٌ وداعٍ إلى محبة الله ومعرفتِهِ وعونٌ على الخير وكفٌّ للسان عن الكلام القبيح.