اور اس نے ان اہل کتاب کو، جنھوں نے ان کی مدد کی تھی، ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، ایک گروہ کو تم قتل کرتے تھے اور دوسرے گروہ کو قید کرتے تھے۔
En
اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے اُن کی مدد کی تھی اُن کو اُن کے قلعوں سے اُتار دیا اور اُن کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ تو کتنوں کو تم قتل کر دیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَنْزَلَالَّذِیْنَظَاهَرُوْهُمْ ﴾”اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔“ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنْاَهْلِالْكِتٰبِ ﴾”اہل کتاب میں سے۔“ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنْصَیَاصِیْهِمْ ﴾”ان کے قلعوں سے“ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَفِیْقُ٘لُوْبِهِمُالرُّعْبَ ﴾” اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔“ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِیْقًاتَقْتُلُوْنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاْسِرُوْنَفَرِیْقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنزلَ الذين ظاهَروهم}؛ أي: عاونوهم {من أهل الكتاب}؛ أي: من اليهود {من صياصِيهم}؛ أي: أنزلهم من حصونهم نزولاً مظفوراً بهم مجعولين تحت حكم الإسلام، {وَقَذَفَ في قلوبِهِمُ الرعبَ}: فلم يقووا على القتال، بل استسلموا وخضعوا وذلُّوا. {فريقاً تقتلون}: وهم الرجال المقاتلون، {وتأسرونَ فريقاً}: من عداهم من النساء والصبيان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔