اور اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، انھوں نے کوئی بھلائی حاصل نہ کی اور اللہ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
En
اور جو کافر تھے اُن کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے
اور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَرَدَّاللّٰهُالَّذِیْنَكَفَرُوْابِغَیْظِهِمْلَمْیَنَالُوْاخَیْرًا ﴾”اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَ٘فَىاللّٰهُالْمُؤْمِنِیْنَالْقِتَالَ ﴾”اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَاللّٰهُقَوِیًّاعَزِیْزًا﴾”اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔“ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وردَّ الله الذين كفروا بغيظِهِم لم ينالوا خيراً}؛ أي: ردَّهم خائبين، لم يحصُل لهم الأمر الذي كانوا حريصين عليه، مغتاظين، قادرين عليه، جازِمين بأنَّ لهم الدائرة، قد غرَّتهم جموعهم وأُعْجبوا بتحزُّبهم وفرِحوا بعددِهم وعددِهم، فأرسل الله عليهم ريحاً عظيمةً، وهي ريح الصَّبا، فزعزعت مراكزَهم، وقوَّضت خيامهم، وكفأت قدورَهم، وأزعجتهم، وضربهم الله بالرعب، فانصرفوا بغيظهم، وهذا من نصر الله لعباده المؤمنين. {وكفى اللهُ المؤمنينَ القتال}: بما صَنَعَ لهم من الأسباب العاديَّة والقدريَّة. {وكان الله قويًّا عزيزاً}: لا يغالِبُه أحدٌ إلاَّ غُلِب، ولا يستنصره أحدٌ إلا غَلَب، ولا يعجِزُه أمرٌ أراده، ولا ينفع أهل القوَّة والعزَّة قوتُهم وعزَّتُهم إن لم يُعِنْهُم بقوَّته وعزَّته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔