تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 8

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ ۙ﴿۸﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں
En
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما بشارةُ أهل الخير؛ فقال: {إنَّ الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ}: جمعوا بينَ عبادة الباطن بالإيمان والظاهر بالإسلام والعمل الصالح، {لهم جناتُ النعيم}: بشارةً لهم بما قدَّموه وقِرىً لهم بما أسلفوه {خالدين فيها}؛ أي: في جنات النعيم نعيم القلب والروح والبدن. {وعد الله حقًّا}: لا يمكن أن يُخْلَفَ ولا يغيَّر ولا يتبدَّل. {وهو العزيزُ الحكيم}: كامل العزَّة، كامل الحكمة، من عزَّته وحكمتِهِ، وَفَّق من وَفَّق، وخَذَل بحسب ما اقتضاه علمُه فيهم وحكمتُه.